🥀 _*ہمارے اعلٰی تعلیم کے اِدارے*_ 🥀
آمنہ آپ بریک ٹائم میرے آفس میں آئیں
سر امتیاز نے لیکچر ختم ہونے پر آمنہ سے کہا پاکستان کے اِک مشہور مذہبی گھرانے کی بیٹی آمنہ حبیب (فرضی نام) لاہور کی اک مشہور اور مہنگی یونیورسٹی سے تعلیم حاصل کرنے آئی لائق تھی پڑھنے کا شوق تھا تو بہت کوششوں اور منتوں سے اِسکے باپ نے اِسے یونیورسٹی میں داخلہ دلوایا تھا آمنہ اپنے خاندان میں وہ پہلی لڑکی تھی جو یونیورسٹی پہنچی تھی
اپنی اماں کی تربیت اور باپ کی نیک نامی کا خیال اور اُسکے ساتھ اپنی عزت و تکریم کا احساس بھی تھا اسلئے آمنہ یونیورسٹی میں بھی عبایہ پہنتی یونیورسٹی کے آزاد ماحول کے باوجود وہ لڑکوں کے میل جول سے دُور رہتی تھی
ابھی کل ہی سر امتیاز کے سبجیکٹ کا پیپر تھا تو آمنہ سوچنے لگی شاید پیپر میں کوئی گڑبڑ ہوئی ہے اسلئے سر بُلا رہے
دروازے پر دستک دیکر اُس نے اجازت مانگی
سر میں اندر آ جاؤں؟
آ جاؤ
وہ اندر داخل ہُوئی تو سر امتیاز لیپ ٹاپ پر کُچھ دیکھ رہے تھے
سر آپ نے مُجھے بُلایا
ہاں آپ کی توجہ کدھر ہوتی ہے؟
آپکو کچھ پتہ ٹیسٹ کیسے دیتے ہیں؟
سر کِیا ہُوا؟
وہ گھبرائی
اس طرح ٹیسٹ لینا چاہتا ہُوں میں ایسی پرفارمنس کیساتھ سر نے لیپ ٹاپ کی سکرین اُسکی طرف موڑتے ہُوئے کہا آمنہ نے یُونہی سکرین دیکھی تو لرز گئی
لیپ ٹاپ پر فحش ویڈیو آن تھی جس میں مرد و عورت آپس میں.......
آمنہ دروازہ کھول کر باہر بھاگی اور پھر کلاس رُوم میں جا کر رونے لگ گئی سارا دن ساری رات یہ سب کُچھ اُسکی نظروں میں ذہن میں گُھومتا رہا اور وہ سوچ سوچ کر ہلکان ہوتی رہی اگلے دن لیکچر کے بعد کلاس رُوم میں ہی بیٹھی تھی جب اُسے سر امتیاز کا میسج ملا
کیا سوچا ہے آمنہ؟
ٹیسٹ کب دو گی آپ؟
میسج سِین کر تے ہی وہ پسینے سے شرابور
کانپتے ہاتھوں سے اُس نے میسج ڈیلیٹ کیا اور پھر باقی لیکچرر چھوڑ کر ہاسٹل چلی آئی
کیا کروں؟
کس کو بتاؤں؟
امّی کو بتاتی ہوں موبائل نکالا ماں کو کال کر دی
پھر سوچا امی کیا کریں گی؟
ابو کو بتائیں گی تو پڑھائی ختم اور گھر بُلا لیں گے
وہ یہ سب سوچ کر پھر ماں سے بات نہ کر سکی
اُس کی روم میٹ جب ہاسٹل آئی تو انہوں نے بھی پوچھا
کیا ہُوا تُم یونیورسٹی سےبھی جلدی آ گئی
کُچھ نہیں بس طبیعت نہیں ٹھیک
ٹیسٹ کا رزلٹ آیا تو آمنہ اپنے یونیورسٹی کیرئیر میں پہلی بار ٹیسٹ میں فیل تھی
جب تک آپ اچھی طرح یہ ٹیسٹ نہیں دیں گی سبجیکٹ پاس نہیں ہوگا
یہ دوسرا میسج تھا سرامتیاز کا پھر وُہی ہُوا فائنل پیپرز میں سرامتیاز کے سبجیکٹ میں آمنہ فیل تھی اور بہت بُرے نمبرز سے فیل تھی
اُس نے ہمت کرکے اپنی اک کلاس فیلو کو سب بتایا اور کہا کہ اگر مُمکن ہے تو میرا پیپر چیک کروا دو مُجھے یقین ہے میں پاس ہوں لیکن سرامتیاز کی بات نہ ماننے کی وجہ سے فیل قرار دیا گیا ہے
خدیجہ نے سرامتیاز سے بات کی سر! آمنہ کا پیپر چیک دکھا دیں گے وہ ری چیکنگ کروانا چاہتی
آپ ڈیپارٹمنٹ کلرک عباس سے پتہ کریں
وہ دونوں اُدھر گئیں تو کلرک کا جواب تھا ابھی میٹنگ ہے تو آپ کل آکر پیپر دیکھ لینا اگلے دن گئیں تو کلرک عباس نے صاف کہہ دیا سرامتیاز کے کُچھ ٹیسٹ آپ نے چھوڑے ہیں اسلئے اُنہوں نے آپکا سبجیکٹ فیل کر دیا ہے اور پیپرز بھی اُنہی کے پاس ہیں آپ اُن سے مل لیں
خدیجہ! یہ بندہ مُجھے ہراساں کر رہا اور آمنہ تُم نے مجھے پہلے کیوں نہیں بتایا؟
لیکن دونوں کی لاکھ کوششوں کے باوجود نا تو آمنہ کا سبجیکٹ کلئیر ہُوا نا ہی امتیاز سے چُھٹکارا ملا بلکہ اُلٹا یہ ہُوا کہ خدیجہ کا بھی رزلٹ روک لیا گیا اک سیمسٹر میں آمنہ اُس سبجیکٹ میں فیل ہو چکی تھی یعنی اب اگر پیپرز چیک نہ ہوتے تو چھ ماہ اُسے مزید یونیورسٹی رہنا تھا
اور کلرک عباس کے ذریعے آمنہ کو دوبارہ میسج ملا کہ جب تک ٹیسٹ نہیں دو گی تُم پاس نہیں ہوگی
آخر تنگ آکر اور مجبور ہوکر خدیجہ نے یہ سب کُچھ اپنے اک کزن عِمران جو کہ حساس ادارے میں مُلازم تھا انکو بتایا اور اُسے کچھ کرنے کو کہا عِمران خُود پروفیسر امتیاز سے ملنے آیا اور اُسے آگاہ کیا کہ یہ میری کزن کی دوست ہے اُستاد باپ کی جگہ ہوتا ہے آپ براہ مہربانی سبجیکٹ کلئیر کریں اور بچی کو ہراساں مت کیجئے
تُم کون ہو؟
یہ کس طرح کے گھٹیا الزام لگا رہے ہو ؟
اور اسٹوڈنٹ کے گارڈین کے علاوہ کوئی شخص ہم سے سوال نہیں کرسکتا میں ابھی ڈین سے بات کرتا اُنکے گارڈین کو بُلواتا ہوں
اچھا سر آپ غصہ نہ ہوں میں معزرت خواہ ہوں مجھے یونیورسٹی رُولز کا پتہ نہیں تھا
چلے جاؤ یہاں سے ورنہ میں سیکیورٹی بُلا کر تُمہیں دھکے دیکر بھجواؤں گا پتہ ہوتا نہیں مُنہ اُٹھا کر آجاتے
عمران اُٹھ کر آ گیا اور پھر اُسی رات پروفیسر امتیاز اُن کا مہمان تھا
بہت اچھی میزبانی کی گئی پروفیسر صاحب کی اچھی خاصی خاطرمدارت کے بعد اُنہیں باعزت طریقے سے اُنکی رہائش گاہ کے باہر چھوڑ دیا گیا
صُبح اُنہوں نے خُود آمنہ اور خدیجہ کو بُلاکر معافی مانگی اور اُنکے سبجیکٹ رزلٹ کلئیر کروائے
نوٹ! یہ اک سچی داستان ہے جہاں اک لڑکی کی عِزت اُسکے اپنے پُختہ کردار اور ہماری بروقت مدد سے بچ گئی اور وہ اس گھناؤنے مافیا سے محفوظ رہی لیکن ہزاروں بچیاں ایسی ہیں جو ڈر خوف تربیت میں کمی یا شوق سے اس مافیا کے ہاتھوں اپنی عزت و آبرُو لُٹا چُکی ہیں خُدارا اپنی بیٹیوں کو کبھی کسی غیر محفوظ اور نامناسب جگہ پر نہ بھیجا کریں
(اللہ سب کی بیٹیوں کی عزت و آبرُو کی حفاظت رکھے آمین)
